15 جنوری 2012 - 20:30

موریطانیہ کے صدر نے امیر قطر کو بے آبرو کرکے ملک سے نکال باہر کیا اور اس کے بعد تیونسی عوام کی باری آئی تو انھوں نے اپنے انقلاب کی پہلی سالگرہ کے موقع پر امیر قطر اور ان کی اہلیہ کے دورہ تیونس پر احتجاجی مظاہرے کرکے انہیں ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا؛ احتجاجی ریلیوں میں شریک تیونسی نعرے لگا رہے تھے: تیونس بکاؤ مال نہیں ہے۔ امیر قطر کے کرتوتوں پر مبنی رپورٹیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امیر قطر اور ان کی اہلیہ کو حال ہی میں موریطانیہ سے نکال باہر کیا تھا اور اب وہ دونوں جب تیونس کے انقلاب کی پہلی سالگرہ میں شرکت کرنے کے لئے تیونس پہنچے تو تیونس کے عوام نے دل کی بات دل میں رکھنا مناسب نہ سمجھی اور ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔تیونس کے عوام نے امیر قطر کے بارے میں کے خلاف ریلیوں میں ان کے خلاف نعرے لگائے اور ان سے اپنی نفرت کا بھرپور اظہار کیا اور تیونس کی سیاسی اور انقلابی جماعتوں نے انہیں امریکہ اور صہیونیت کا ایجنٹ قرار دیا۔"شیخ حمد بن خلیفه آل‌ثانی" تیل، گیس، امریکی فوج اور الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک کی مدد سے بڑی طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے اور اس نے بڑی ریاست بننے کے لئے نجد و حجاز اور الشرقیہ پر قبضے کے خواب بھی اعلانیہ بیان کئے ہیں لیکن اس کے امیر کو عرب عوام بالخصوص انقلابی عرب عوام کی شدید نفرت کا سامنا ہے۔تیونس کے ڈیموکریٹک نیشنلسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل "شکری بلعید" نے کہا ہے کہ انقلاب تیونس کی پہلی سالگرہ پر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی اور شیخہ موزہ کی موجودگی تیونس میں سیاسی تناؤ کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ تیونس کے عوام کسی صورت میں بھی ان کا استقبال کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور ان کی شرکت کی وسیع مخالفت ہورہی ہے۔ بلعید نے کہا: حیرت کا مقام ہے کہ نیٹو، امریکہ اور صہیونی ریاست کے حلیف امیر قطر کو تیونس آنے کی جرأت کیونکر ہوئی؟!۔کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل حمۃالہمامی نے امیر قطر کے دورہ تیونس کی مخالفت کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس دورے کے خلاف متحد ہوکر سڑکوں پر آئیں۔ تیونس کے روزنامے "الحقیقہ" نے صفحۂ اول پر شیخ حمد بن خلیفہ کی بڑی تصویر لگائی ہے اور سرخی میں لکھا ہے: "اے حمد! ہم آپ کو خیر مقدم نہيں کہتے ۔۔۔ تیونس بکاؤ مال نہیں ہے"۔ تیونس کے سیاسی اور ابلاغی حلقوں نے تیونس میں امیر قطر کے اثر و رسوخ میں اضافے سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ تیونس کا وزیر خارجہ رفیق عبدالسلام قطر کے مشورے سے مقرر کیا گیا ہے کیونکہ وہ اس سے پہلے الجزیرہ ٹی وی چینل میں کام کرتا رہا ہے۔

ــ امیر قطر کے خلاف اعتراضات کی لہرعرب ممالک میں قطر کی مداخلت آمیز پالیسیاں اور امریکہ اور صہیونی ریاست کی اعلانیہ پیروی مصر میں قطر کے خلاف اعتراضات میں اضافے کا سبب بن گئی ہے اور مصری عوام نے عرب لیگ میں قطر کی رکنیت منسوخی کا مطالبہ کیا ہے اطلاعات کے مطابق مصر کی عوامی دفاعی کمیٹیوں کی تحریک نے اعلان کیا ہے کہ مصری عوام قاہرہ میں ‍قطری سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ کریں گے۔ اس مصری تحریک نے کہا ہے کہ احتجاجی دھرنے کے دوران عرب لیگ میں قطر کی رکنیت کی منسوخی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ تحریک نے عرب لیگ میں قطر کی رکنیت کی منسوخی کے مطالبے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قطر علاقے میں امریکی مشن کی خدمت کررہا ہے اور امریکی پالیسیوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اس تحریک کی بانی محترمہ منال المصری نے کہا: ہم دھرنے میں ایسے ثبوتوں اور دستاویزات بھی منظر عام پر لائیں گے جو امریکہ اور صہیونی ریاست کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ قطر کے قریبی تعاون کو ظاہر کرتی ہیں۔ نیز ویکی لیکس کی طرف سے شائع ہونے والی دستاویزات کی رونمائی کی جائے گی جن میں الجزیرہ نیٹ ورک کے مشکوک کردار سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ ویکی لیکس سے حال ہی میں فاش کیا ہے کہ الجزیرہ کے سابق سربراہ "وضاح الخنفر" سی آئی اے کی ہدایت پر کام کرتے رہے ہیں۔منال المصری نے کہا: قطری شیخ نے اپنے پانچ ہزار فوجی لیبیا میں مداخلت اور نیٹو کے ساتھ تعاون کے لئے روانہ کئے ہیں اور وہ شام میں انارکی پھیلانے کی سازش میں مصروف ہیں اور انھوں نے عرب لیگ کے منشور اور عرب ممالک کے مشترکہ دفاعی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے کہا: قطر کے خلاف احتجاجی تحریک پورے مصر میں پھیلنے والی ہے اور چونکہ قطر نیٹو کا حلیف ہے اسی لئے عرب لیگ میں اس کی رکنیت کی منسوخی کا مطالبہ پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔ دریں اثناء لیبیائی عوام اور سیاسی جماعتوں نے بھی قطر کی مداخلت پر احتجاج کیا ہے اور اطلاعات کے مطابق لیبیائی عوام ان کے ملک میں قطر کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے تنگ آگئے ہیں اور قطر سے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے لیبیا کے معاملات میں مداخلت جاری رکھنے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ــ لیبیا میں قطر کی مداخلت، وہابیوں کی حمایتطرابلس میں انقلابی نوجوانوں کی تحریک کے نمائندے نے انکشاف کیا ہے کہ قطر سمیت بعض خلیبی ریاستیں اس ملک میں مداخلت اور وہابیوں کی حمایت کرکے لیبیائی انقلاب کو منحرف کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اشرف قرہ بوللی نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بعض بیرونی ممالک اور ان کے علاقائی کٹھ پتلی عرب انقلابات کو منحرف کرنے کی کوشش کررہے ہیں چنانچہ عرب ممالک کو ان ممالک کی پالیسیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے باز رہنا چاہئے۔ انھو نے کہا: خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع عرب ریاستیں مغرب کے ایجنٹ ہیں اور اس سلسلے میں ان ریاستوں کا نمائندہ قطر ہے جو علاقے میں مغربی ممالک کا کردار ادا کررہا ہے۔ انھوں نے کہا: قطر کے دو چہرے ہیں ایک لادین چہرہ اور دوسرا وہابی اور تکفیری چہرہ اور اس کے وہابیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور مستضعف ممالک کے خلاف کام کررہا ہے تا کہ لیبیا سمیت عرب اور اسلامی ممالک کی دولت پر قبضہ کرسکے۔انھوں نے کہا: مغربی دنیا لیبیا‏ئی انقلاب کی ناکامی کی ذمہ دار ہے جو مختلف وسائل اور ذرائع سے لیبیا میں سرگرم عمل ہے اور اس کے اندرونی ایجنٹ خلیج فارس کی ریاستوں کی گود میں کھیل رہے ہیں اور ان سے مسلسل ملاقاتیں کررہے ہیں۔ قرہ بوللی نے کہا: ہم نے اعلان کیا ہے کہ جس نے مغرب سے رابطہ کیا وہ اندرون ملک کسی سرگرمی کا اہل نہیں رہتا اور اس کی اہلیت ختم ہوجاتی ہے لیکن مغرب نے اپنے ایجنٹوں کے لئے امداد بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ انھوں نے قومی عبوری کونسل سے کہا کہ وہ مغرب کی گود میں پناہ ڈھونڈنے کی بجائے ایران کی اسلامی جمہوری حکومت سے سبق سیکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ایران مسلسل ترقی کررہا ہے اور لبنان میں حزب اللہ کا بھی یہی حال ہے جبکہ خلیچ فارس کی ساحلی ریاستوں کی تمام ضروریات مغربی دنیا پوری کرتی ہے۔

ــ بڑی طاقت کے سپنے دیکھنے والی خلیج فارس کی چھوٹی کی رسوائیاںسابق عراقی رکن پارلیمان نے کہا کہ ان کے پاس ایسی دستاویزات ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ خلیج فارس کی ایک چھوٹی ریاست علاقے کی عرب حکومتوں کا تختہ الٹ کر بڑی طاقت بننا چاہتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سابق عراقی رکن پارلمان اور "الرأی" سیٹلائٹ چینل کے مالک "مشعان الجبوری" نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایسی دستاویزات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ علاقے کی ایک چھوٹی سی ریاست عرب ملکوں کی حکومتوں کا تختہ الٹ کر بڑی طاقت بننے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ ان تمام ممالک کو نیست و نابود کرکے ایک عرب ریاست قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے کہا: ہمارے پاس ایسے آڈیو کلپس ہیں جو بعض عرب سربراہوں کی رسوائی کا سبب بن سکتے ہیں اور جن کلپس کی نشرو اشاعت عرب قوم میں فائدے میں ہوگی ہم انہیں نشر کریں گے۔انھوں نے کہا: ہمارے پاس کیسٹیں ہیں جن میں عرب حکمرانوں کے دل کی باتیں ریکارڈ کی گئی ہيں اور اگر وہ نشر ہوجائیں تو عرب حکام کو ان کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی کیونکہ یہ کیسٹیں بتاتی ہیں کہ اکثر عرب حکام دوسرے عرب حکام کا تختہ الٹنے کی سازشوں میں مصروف رہے ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ کیسٹیں ہمیں قذافی کی طرف سے موصول ہوئی ہیں کیونکہ قذافی نے قتل ہونے سے تھوڑی دیر قبل الرأی چینل کے ساتھ رابطہ کیا اور ایسی باتیں ریکارڈ کرادیں جو وصیت سے شباہت رکھتی ہیں اور ہم قذافی کی یہ آخری باتیں عنقریب نشر کررہے ہیں۔ قبل ازیں عراقی روزنامے "السیاسہ" کے چیف ایڈیٹر عادل المانع نے کہا بعض ذرا‏ئع نے ایک آڈیو کلپ نشر کیا ہے جس میں قطر کے امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی نے ایک شامی شخص سے بات چیت کرتے ہوئے عراقی حکومت کی پیشرفت و ترقی کا راستہ روکنے اور اس ملک میں اہل تشیع کی طرف سے برتر پوزیشن حصول کی کوششیں ناکام بنانے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ عراق کو عالم عرب میں برتر کردار تک کسی صورت میں بھی نہیں پہنچنا چاہئے۔  شیخ حمد نے اس مکالمے میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ عراق میں خلیجی ریاستوں کے عزائم کیا ہیں۔ان ذرائع نے کہا کہ قطر کے امیر اور وزیر خارجہ کے ایسے مکالمے بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں انھوں نے ارن اور سعودی عرب کے خلاف بھی اپنے عزائم واضح کردیئے ہیں اور یہ کہ یہ مکالمات بعض شامی اہلکاروں اور بعض عرب ذرائع ابلاغ کو پہنچادیئے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان ریکارڈ شدہ مکالموں میں دوسرے عرب حکمرانوں کے مکالمے بھی شامل ہیں جو لیبیا جاکر اپنے دل کی بات بے دھڑک کہہ دیا کرتے تھے اور وہ اس بات سے غافل تھے کہ قذاقی ان کی باتیں ریکارڈ کررہے ہیں۔ قبل ازین قذافی کے ساتھ قطری وزير اعظم و وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم کا ایک مکالمہ نشر کیا گیا جس میں انھوں نے سعودی حکمرانوں کا تختہ الٹنے کے سلسلے میں قطر کے عزائم بیان کئے تھے۔ اس مکالمے میں قطری وزیر اعظم نے کہا تھا کہ قطر آخر کا سعودی عرب کو تقسیم کردے گا اور الشرقیہ کے علاقے پر قبضہ کرے گا۔

[قطری وزیراعظم: آل سعود کا زوال قطر کے ہاتھوں ہوگا]

اس سے قبل قطر کے امیر کے حوالے کہا گیا تھا کہ انھوں نے بعض فرانسیسی حکام سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ ان کے خاندان کو سعودی عرب پر حکومت کرنے کا حق ہے کیونکہ وہ نجد سے آئے ہیں اور سعودی عرب ان کا وطن ہے۔

[آل ثانی: میرے خاندان کو سعودی عرب پر حاکمیت کا حق ہے/ قطری شیخ کے کرتوتوں پر مبنی رپورٹیں]

جبکہ اس سے قبل شیخ حمد بن خلیفہ نے محمدبن عبدالوہاب مسجد کا افتتاح کیا اور کہا کہ وہ خالص وہابی ہیں۔

[آل ثانی خاندان کے حکمران وہابیت کے حلقہ بگوش / اہم واقعہ]

اس سے بھی قبل ایک سعودی شہزادے نے کہا تھا کا قطر کے امیر نے سعودی عرب کو تقسیم کرنے کا منصوبہ تیا کررکھا ہے۔

رجوع کریں: طلال بن عبدالعزیز کے اہم انکشافات

ــ امیر قطر کو موریطانیہ سے نکال باہر کیا گیاحال ہی میں اپنے والد کا تختہ